اشاعتیں

جولائی, 2022 سے پوسٹس دکھائی جا رہی ہیں

یوم شہدائے کشمیر

تصویر
 "13 جولائی 1931 اذان کی اہمیت اور اذان کی تکمیل کے لئے 22 کشمیری موذنین نے جام شہادت نوش کیا" اس دن کی حقیقت کیا ہے؟ 13 جولائی 1931ء میں کشمیر میں ہزاروں کشمیریوں نے عبدالقدیر نامی کشمیری رہنماء کو باغی قرار دیکر گرفتار کرنے پر سرینگر سنٹرل جیل کے سامنے احتجاج کیا ظہر کی نماز کے وقت جب مظاہرین میں سے ایک نوجوان نے نماز کے لیے اذان دی تو ایک ڈوگرہ سپاہی نے گولی چلادی جس سے اس موذن کی موت ہوئی اسی اذان کو اسی مقام سے ایک دوسرے نوجوان نے شروع کیا لیکن اسے بھی گول ماردی گئی تاریخ کے مطابق اس طرح بائیس نوجوان شہید ہوئے تب یہ اذان تکمیل کو پہنچی۔ 22 مؤذنوں کی شہادت کے بعد اذان مکمل ہوئی اور دنیا کی تاریخ میں ایک ایسی اذان بن گئی کہ جس کیلئے 22 جانیں دینا پڑیں مگر کشمیریوں نے اذان کی تکمیل کی خاطر اپنی جانیں دینے سے دریغ نا کیا جس پر ڈوگرا راج دہشت کا شکار ہو گیا اور یوں کشمیر کی تحریک آزادی کا باقاعدہ آغاز ہوا اور اسی دن کو یوم شہداء کشمیر کے نام سے منایا جاتا ہے۔ اس قتل عام کی یاد میں ہر سال کشمیر میں 13 جولائی کو یوم شہدائے کشمیر منایا جاتاہے۔ ________________________________ ...

فنگر پرنٹس

تصویر
انسانی جسم کی انگلیوں میں لکیریں تب نمودار ہونے لگتی ہیں جب انسان ماں کے شکم میں 4 ماہ تک پہنچتا ہے یہ لکیریں ایک ریڈیایی لہر کی صورت میں گوشت پر بننا شروع ہوتی ہیں ان لہروں کو بھی پیغامات ڈی۔۔این۔۔اے دیتا ہے مگر حیرت کی بات یہ ہے کہ پڑنے والی لکیریں کسی صورت بھی اس بچے کے جد امجد اور دیگر روئے ارض پر موجود انسانوں سے میل نہیں کھاتیں گویا لکیریں بنانے والا اس قدر دانا اور حکمت رکھتا ہے کہ وہ کھربوں کی تعداد میں انسان جو اس دنیا میں ہیں اور جو دنیا میں نہیں رہے ان کی انگلیوں میں موجود لکیروں کی شیپ اور ان کے ایک ایک ڈیزائن سے باخبر ہے یہی وجہ ہے کہ وہ ہر بار ایک نئے انداز کا ڈیزائن اس کی انگلیوں پر نقش کر کے یہ ثابت کرتا ہے ۔۔۔۔۔ کہ ہے کوئ مجھ جیسا ڈیزائنر ؟؟؟ کوئ ہے مجھ جیسا کاریگر ؟؟؟ کوئ ہے مجھ جیسا آرٹسٹ ؟؟؟ کوئ ہے مجھ جیسا مصور ؟؟؟ کوئ ہے مجھ جیسا تخلیق کار ؟؟؟ حیرانگی کی انتہاء تو اس بات پر ختم ہوجاتی ہے کہ اگر جلنے زخم لگنے یا کسی وجوہات کی بنیاد پر یہ فنگر پرنٹ مٹ بھی جائے تو دوبارہ ہو بہو وہی لکیریں جن میں ایک خلیے کی بھی کمی بیشی نہیں ہوتی ظاہر ہو جاتی ہیں۔۔۔۔ پس ہم پر کھلتا ہ...

‎ہجوم کے ساتھ غلط راستے پر چلنے سے بہتر ہے کہ ! ‎بندہ درست راستے پر اکیلا سفر کرے۔

تصویر
 

دشمن

 ‏کُھلے دشمن اور دوست نما دشمن میں ایک فرق یہ بھی ہے کہ کھلا دشمن سرِعام تیز دھار آلے سے ذبح کرتا ہے جبکہ دوست نما دشمن کُند آلے سے آہستہ آہستہ غیرمحسوس طریقے سے آپکے بھروسے کا سر قلم کر دیتا ہے۔