اشاعتیں

2020 سے پوسٹس دکھائی جا رہی ہیں
آیا صوفیہ کے حوالے سے دیسی لبرلز کا درد قابل فہم ہے۔ سو پیش خدمت ہے کچھ برنال۔ ٭ پہلی گزارش تو یہ ہے کہ مغربی ممالک اور ان کے دیسی حواریوں کو اس موضوع پر بات کرنے کا کوئی حق نہیں۔ کیونکہ سیکولرزم کا بنیادی اصول ہے کہ اس کا مذہب سے کوئی لینا دینا نہیں۔ لھذا ایک مذہبی معاملے میں سیکولر ریاستیں اور ان کے دیسی غلام اپنی چونچ بند رکھیں۔ ٭ دوسری گزارش یہ ہے کہ چرچ کو مسجد سلطان محمد فاتح نے بنایا تھا۔ طیب اردگان نے کسی بھی چرچ کو مسجد بنانے کی کوشش نہیں کی۔ یقین نہ آئے تو ترکی کے سارے چرچ گن لیجئے، تعداد پوری ملے گی۔ طیب اردگان نے تو ایک ایسی عمارت کو مسجد بنانے کی کوشش کی جو 86 سال سے میوزیم تھی اور اس کا میوزیم ہونا تسلیم کرتے ہی کرسچین اپنا چرچ والا دعوی کھوچکے تھے۔ کوئی ملک اپنے میوزیم کو کالج بنائے یا مسجد، اس سے بیرونی دنیا کا کیا لینا دینا ؟ ٭ تیسری گزارش یہ ہے کہ جب بھی عافیہ صدیقی کی رہائی کی بات کی جائے امریکہ ہو خواہ دیسی لبرلز، ان کا بیانیہ ہوتا ہے کہ عافیہ کو "عدالت" نے سزا دی ہے اور عدالتی معاملات میں حکومتیں بے بس ہوا کرتی ہیں۔ سو وہی دلیل اب آیا صوفیہ کے معام...