اشاعتیں

Uzair Waheed

تصویر
Uzair Waheed was born on 20 May 2001 in Rawalpindi.He belongs to a religious family.His father, Maulana Abdul Wahid, hails from the picturesque village of Jugluri in the Bagh district of Kashmir.He is the imam of a mosque in Rawalpindi.Uzair Wahid received his primary education from FG Junior Public School, Gracyline Chaklala.Since childhood, I have been fond of reciting the Quran. After completing his primary education, he completed his graduation from the famous Madrasa of Ma'arif-ul-Quran in Islamabad.In memory, his teacher was Qari Zareen Sahib, who is a famous reader. He has hundreds of students.After completing his graduation in 2016, he continued his contemporary education by completing his matriculation and intermediate from Federal Board Islamabad.Along with education, he is very active on social media.He also created his own channel on YouTube and is also working on Facebook under the name Hafiz Uzair Waheed. Marriage: Uzair Waheed got married on August 6, 2023, from his ...

عزیر وحید

 عزیر وحید 20 مئی 2001 کو راولپنڈی میں پیدا ہوئے ۔ ان تعلق ایک دینی گھرانے سے ہے ۔ان کے والد مولانا عبدالوحید جن کا تعلق کشمیر کے ضلع باغ کے ایک خوبصورت گاؤں جگلڑی سے ہے ۔ وہ راولپنڈی میں ہی ایک مسجد میں امام ہے ۔ عزیر وحید نے پرائمری تک تعلیم ایف جی جونئیر پبلک سکول گریسی لائن چکلالہ سے حاصل کی ۔ بچپن سے ہی قرآن حفظ کرنے کا بہت شوق تھا چنانچہ وہ پرائمری کی تعلیم حاصل کرنے کے بعد اسلام آباد کے مشہور مدرسے جامعہ معارف القرآن جی نائن ٹو سے حفظ مکمل کیا حفظ میں ان کے استاد قاری ذرین صاحب تھے جو ایک مشہور قاری ہے ان کے سیکڑوں شاگرد ہے ۔ 2016 میں حفظ مکمل کرنے کے بعد انہوں نے اپنی عصری تعلیم جاری رکھی میٹرک اور انٹرمیڈیٹ فیڈرل بورڈ اسلام آباد سے مکمل کی ۔تعلیم کے ساتھ ساتھ سوشل میڈیا میں بہت زیادہ ایکٹیو رہتے ہے ۔ انہوں نے یوٹیوب پر اپنا چینل بھی بنایا اور فیس بک پر بھی Hafiz Uzair Waheed کے نام سے کام کر رہے ہے ۔ شادی : عزیر وحید نے شادی 6 اگست 2023 اپنے والد کے آبائی علاقے جگلڑی باغ آزاد کشمیر سے ہی کی ۔ ملازمت : عزیر وحید سوشل میڈیا ایکٹوسٹ کے علاؤہ ٹیچر بھی ہے جو آنلائن اسلامی تعلیم...

یوم شہدائے کشمیر

تصویر
 "13 جولائی 1931 اذان کی اہمیت اور اذان کی تکمیل کے لئے 22 کشمیری موذنین نے جام شہادت نوش کیا" اس دن کی حقیقت کیا ہے؟ 13 جولائی 1931ء میں کشمیر میں ہزاروں کشمیریوں نے عبدالقدیر نامی کشمیری رہنماء کو باغی قرار دیکر گرفتار کرنے پر سرینگر سنٹرل جیل کے سامنے احتجاج کیا ظہر کی نماز کے وقت جب مظاہرین میں سے ایک نوجوان نے نماز کے لیے اذان دی تو ایک ڈوگرہ سپاہی نے گولی چلادی جس سے اس موذن کی موت ہوئی اسی اذان کو اسی مقام سے ایک دوسرے نوجوان نے شروع کیا لیکن اسے بھی گول ماردی گئی تاریخ کے مطابق اس طرح بائیس نوجوان شہید ہوئے تب یہ اذان تکمیل کو پہنچی۔ 22 مؤذنوں کی شہادت کے بعد اذان مکمل ہوئی اور دنیا کی تاریخ میں ایک ایسی اذان بن گئی کہ جس کیلئے 22 جانیں دینا پڑیں مگر کشمیریوں نے اذان کی تکمیل کی خاطر اپنی جانیں دینے سے دریغ نا کیا جس پر ڈوگرا راج دہشت کا شکار ہو گیا اور یوں کشمیر کی تحریک آزادی کا باقاعدہ آغاز ہوا اور اسی دن کو یوم شہداء کشمیر کے نام سے منایا جاتا ہے۔ اس قتل عام کی یاد میں ہر سال کشمیر میں 13 جولائی کو یوم شہدائے کشمیر منایا جاتاہے۔ ________________________________ ...

فنگر پرنٹس

تصویر
انسانی جسم کی انگلیوں میں لکیریں تب نمودار ہونے لگتی ہیں جب انسان ماں کے شکم میں 4 ماہ تک پہنچتا ہے یہ لکیریں ایک ریڈیایی لہر کی صورت میں گوشت پر بننا شروع ہوتی ہیں ان لہروں کو بھی پیغامات ڈی۔۔این۔۔اے دیتا ہے مگر حیرت کی بات یہ ہے کہ پڑنے والی لکیریں کسی صورت بھی اس بچے کے جد امجد اور دیگر روئے ارض پر موجود انسانوں سے میل نہیں کھاتیں گویا لکیریں بنانے والا اس قدر دانا اور حکمت رکھتا ہے کہ وہ کھربوں کی تعداد میں انسان جو اس دنیا میں ہیں اور جو دنیا میں نہیں رہے ان کی انگلیوں میں موجود لکیروں کی شیپ اور ان کے ایک ایک ڈیزائن سے باخبر ہے یہی وجہ ہے کہ وہ ہر بار ایک نئے انداز کا ڈیزائن اس کی انگلیوں پر نقش کر کے یہ ثابت کرتا ہے ۔۔۔۔۔ کہ ہے کوئ مجھ جیسا ڈیزائنر ؟؟؟ کوئ ہے مجھ جیسا کاریگر ؟؟؟ کوئ ہے مجھ جیسا آرٹسٹ ؟؟؟ کوئ ہے مجھ جیسا مصور ؟؟؟ کوئ ہے مجھ جیسا تخلیق کار ؟؟؟ حیرانگی کی انتہاء تو اس بات پر ختم ہوجاتی ہے کہ اگر جلنے زخم لگنے یا کسی وجوہات کی بنیاد پر یہ فنگر پرنٹ مٹ بھی جائے تو دوبارہ ہو بہو وہی لکیریں جن میں ایک خلیے کی بھی کمی بیشی نہیں ہوتی ظاہر ہو جاتی ہیں۔۔۔۔ پس ہم پر کھلتا ہ...

‎ہجوم کے ساتھ غلط راستے پر چلنے سے بہتر ہے کہ ! ‎بندہ درست راستے پر اکیلا سفر کرے۔

تصویر
 

دشمن

 ‏کُھلے دشمن اور دوست نما دشمن میں ایک فرق یہ بھی ہے کہ کھلا دشمن سرِعام تیز دھار آلے سے ذبح کرتا ہے جبکہ دوست نما دشمن کُند آلے سے آہستہ آہستہ غیرمحسوس طریقے سے آپکے بھروسے کا سر قلم کر دیتا ہے۔

سکول کا نالائق سٹوڈنٹ

تصویر