جستجو میں اُس کی اپنے آپ کو کھونا بھی ہے کچھ نہ کچھ تو کاٹنے سے پیشتر بونا بھی ہے ہو چکا ہے گرچہ سب کچھ، پھر بھی دل کو ہے یقیں جو نہیں اب تک ہوا وہ ایک دن ہونا بھی ہے مجھ کو یہ ذلت گوارا کب ہے، لیکن کیا کروں زندگی کا بوجھ بچوں کے لیے ڈھونا بھی ہے چند لمحوں کی مسرت کی تلافی کے لیے داغِ دل کو آنسوؤں سے عمر بھر دھونا بھی ہے اوّلِ شب، میکدے میں جا رہے ہیں اِس لیے آخرِ شب، یادِ یاراں میں ہمیں رونا بھی ہے اِس لیے فرتاش میں سوتا نہیں ہوں رات بھر ایک دن مجھ کو ہمیشہ کے لیے سونا بھی ہے
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں